غزل
حسرت بنی جو خواہشیں ، ان خواہشوں سے کہہ
دو
ہم ٹوٹ کربکھرے نہیں ،
آزمائشوں سے کہہ دو
پنہاں ہمارے سینے میں ،
اک صبر کا سمندر
تم ہی ڈوب جاو گے ، پیمائشوں سے کہہ دو
گرنے نہ دیں گے روح کو ، خباثتوں کے
جوہڑ میں
ابھرو نہیں ، حد میں رہو ،
آلائشوں سے کہہ دو
مکان گرچہ خستہ اپنے ، حوصلے ہیں مثل چٹاں
جم کے برسو ، خوب برسو ، بارشوں سے کہہ دو
خاک نشیں ، خاک بسر ،
ہم خاک کے پیوند اختر
تم قیصروں کے ہم نشیں ، آرائشوں سے کہہ دو

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں