سہارا
آج بھی اس کی
آمد کا اشارہ نہیں ملا
ڈوبتے کو تنکے کا سہارا نہیں ملا
جفاوں کے بازار
میں وفائیں ڈھونڈتا تھا
کہاں گیا وہ پاگل آوارہ نہیں ملا
کیسی جنم جلی ہے
یہ دنیا کی زندگی اختر
اک بارجو اس سےبچھڑا دوبارہ نہیں ملا














