ٹوٹنے دو ، بکھرنے دو
دل کو کچھ تو کرنے دو
میری سانس تو قائم ہے
وہ مرتا ہے تو مرنے دو
دلہن بھی بن جائے گی
زیست کا روپ نکھرنے دو
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں