جمعہ، 26 جولائی، 2019

غزل

ٹوٹنے دو ،   بکھرنے دو   
دل کو کچھ     تو کرنے دو

میری سانس    تو قائم ہے 
وہ مرتا ہے    تو مرنے دو

دلہن  بھی  بن  جائے  گی
زیست کا روپ  نکھرنے دو

کوئی تبصرے نہیں: